تجسس، جو ہر انسان کے خمیر کا بنیادی جزو ہے، ازل سے اسے اپنے گردو پیش کی دنیا کو  جاننے اور سمجھنے کے لیئے بے قرار  

کرتا آیا ہے۔ صدیوں  سے پر پیچ  گھاٹیوں سے گزرتی انسانی کاوشوں نے اسے تصورِ محض اور حقیقتِ دنیا میں فرق کرنا سکھایا۔

چنانچہ آج انسانی علم اس درجہ آن پہنچا ہے کہ وہ مادی کائنات کے بارے میں بہت کچھ یقین سے کہ سکتا ہے گو کہ ابھی لاعلمی

کا سمندر اس کے سامنے ہے۔  

ہماری کائنات  اسی تجسس سے ماخوذ ہے۔